ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجستھان معاملہ پر چدمبرم کا ٹویٹ عدالتی نظر ثانی فیصلے کے بعد ہو تی ہے

راجستھان معاملہ پر چدمبرم کا ٹویٹ عدالتی نظر ثانی فیصلے کے بعد ہو تی ہے

Sun, 26 Jul 2020 13:11:28    S.O. News Service

نئی دہلی،26؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  وزیر مالیات اور کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے1992ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ ٹویٹس کئے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹس میں یہ بتایا کہ عدالتی نظر ثانی کس صورت میں ممکن ہے۔ چدمبرم کے مطابق آئینی اداروں یا  انہیں چلانے والے افراد کے فیصلوں پر عدالتی ریویو یا نظر ثانی اسی وقت ممکن ہے جب وہ فیصلہ نافذ ہو جائے  یا مکمل کہلانے کے زمرے میں آجائے۔ اس سے قبل نہ تو ریویو ہو سکتا ہے اور نہ اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔ راجستھان کے اسپیکر کےنوٹس کا معاملہ بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔ اس میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اسپیکر سی پی جوشی نے صرف نوٹس دیا ہے۔

 چدمبرم نے یہ بھی واضح کیا کہ1992ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ 5؍ ججوں کی بنچ نے دیا تھا جو ملک کے تمام ہائی کورٹس اور خود سپریم کورٹ پر نافذ ہو تا ہے۔ اس فیصلے کو انہیں تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ سابق وزیر مالیات  نے اس فیصلے کے حوالے سے بتایا کہ سپریم کورٹ نے بالکل واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ دستور کے دسویں شیڈیول میں یہ بات واضح ہے کہ اسمبلیوں کے اسپیکرس یا چیئر مین کے فیصلوں کا ریویو اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ فیصلہ ہو چکا ہو یا نافذ کیا جاچکا ہو۔اس کے ساتھ ہی چدمبرم نے ملک کے عوام کو مخاطب کیا کہ اب اس معاملے میں وہ ہی فیصلہ کریں کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔ واضح رہے کہ راجستھان ہائی کورٹ نے اسپیکر کے ذریعے کانگریس کے باغی اراکین کو دئیے گئے نوٹس پر فیصلہ کرتے ہوئے حالات جوں کے توں برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔اس پر اب فیصلہ پیر کو سپریم کورٹ میںآنے کا امکان ہے۔

 


Share: